ڈرتا ہے خاکسار یہ لب کھولتا ہوا
ڈرتا ہے خاکسار یہ لب کھولتا ہوا
اس شہر کا بشر بھی خدا ہے بنا ہوا
جب داستاں ستم کی سنانے کی بات کی
محفل سے اٹھ گیا وہ مجھے گھورتا ہوا
سانپوں کے خاندان پہ الزام ہے مگر
اس عہد کا بشر ہے بشر کا ڈسا ہوا
کہتے ہیں نفرتوں کا محبت علاج ہے
پہنچا ہوں تیرے در پہ شفا ڈھونڈتا ہوا
دو چار دن حیات کے شاکرؔ بڑھا گیا
آیا تھا دیکھنے جو مجھے ٹوٹتا ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.