بدل گئی ہے فضا اب کسے پکارا جائے
بدل گئی ہے فضا اب کسے پکارا جائے
سنے گا کون صدا اب کسے پکارا جائے
در قبول سے لوٹ آئی ہے دعا اپنی
خفا ہے اپنا خدا اب کسے پکارا جائے
ہوئیں دماغ کی جب ساری کوششیں ناکام
تو پوچھا دل نے بتا اب کسے پکارا جائے
تو خود ہی دور ہوا اپنے چارہ سازوں سے
بتا اے زخم انا اب کسے پکارا جائے
نہیں ہے آشناؔ لبیک کہنے والا نہیں
ہر اعتبار گیا اب کسے پکارا جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.