ہر ایک موج نفس ہے یہاں زیاں کے لیے
ہر ایک موج نفس ہے یہاں زیاں کے لیے
ترس رہی ہے نظر ایک سائباں کے لیے
نظر اٹھائی تو جلنے لگے کئی خورشید
ہمیں پکارا تھا کس چاند نے یہاں کے لیے
خموش لب ہیں مرے آنکھ خون روتی ہے
یہ ایک رنگ ہی کافی ہے داستاں کے لیے
غموں کی دھوپ میں ہم نے جلائے اپنے وجود
کہ کچھ چراغ تو روشن ہوں کارواں کے لیے
کتاب زیست کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرا
ہمیں لکھا گیا عنوان داستاں کے لیے
پکارتی رہیں صدیاں ہمیں مگر ہم بھی
رکے رہے ترے قدموں کے اک نشاں کے لیے
خدا کرے کہ مری خاک کام آ جائے
کسی اڑان کسی شوق بیکراں کے لیے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.