Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر ایک موج نفس ہے یہاں زیاں کے لیے

محمد اسد علی وڑائچ

ہر ایک موج نفس ہے یہاں زیاں کے لیے

محمد اسد علی وڑائچ

MORE BYمحمد اسد علی وڑائچ

    ہر ایک موج نفس ہے یہاں زیاں کے لیے

    ترس رہی ہے نظر ایک سائباں کے لیے

    نظر اٹھائی تو جلنے لگے کئی خورشید

    ہمیں پکارا تھا کس چاند نے یہاں کے لیے

    خموش لب ہیں مرے آنکھ خون روتی ہے

    یہ ایک رنگ ہی کافی ہے داستاں کے لیے

    غموں کی دھوپ میں ہم نے جلائے اپنے وجود

    کہ کچھ چراغ تو روشن ہوں کارواں کے لیے

    کتاب زیست کے اوراق الٹ کے دیکھ ذرا

    ہمیں لکھا گیا عنوان داستاں کے لیے

    پکارتی رہیں صدیاں ہمیں مگر ہم بھی

    رکے رہے ترے قدموں کے اک نشاں کے لیے

    خدا کرے کہ مری خاک کام آ جائے

    کسی اڑان کسی شوق بیکراں کے لیے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے