ہو گیا روز ازل کا واقعہ ازبر مجھے
ہو گیا روز ازل کا واقعہ ازبر مجھے
اہل دنیا مانتے ہیں اس لیے برتر مجھے
چاہے دیکھا ہے وہ روشن مست چہرہ خواب میں
اپنی حالت لگ رہی ہے پہلے سے بہتر مجھے
اب اذیت کی حدوں سے ہو چکا لبریز دل
اب نہیں کاٹے گا تیرے ہجر کا خنجر مجھے
پہلے اس نے اسم کی تفہیم کا کھولا جہاں
اور پھر سکھلا دیے لفظوں کے سب جوہر مجھے
وادیٔ فقر و فنا میں مدتیں گزریں مری
جانتے ہیں اہل عرفان و سخا اکثر مجھے
اب پلٹنے کا کوئی بھی سلسلہ باقی نہیں
چاہے کٹوانا پڑے راہ جنوں میں سر مجھے
پہلے ٹھکرایا گیا اس کی نگاہ ناز سے
ڈھونڈتا پھرتا ہے اب کوئی رضاؔ در در مجھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.