Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

لفظ سارے تھک چکے ہیں استعارے بولتے ہیں

المیر بیخود

لفظ سارے تھک چکے ہیں استعارے بولتے ہیں

المیر بیخود

MORE BYالمیر بیخود

    لفظ سارے تھک چکے ہیں استعارے بولتے ہیں

    شوخ سی اس خامشی میں دل ہمارے بولتے ہیں

    فرش پر جب کوئی عاشق درد سے آہیں بھرے ہے

    عرش کی پہنائیوں میں تب ستارے بولتے ہیں

    کشتیاں جب ڈگمگائیں حوصلے مت ہارنا تم

    بحر غم میں ڈوبتے کو خود کنارے بولتے ہیں

    عشق کی اس راکھ کو تم سرد مت سمجھو خدارا

    اک بجھے تاریک دل میں سو شرارے بولتے ہیں

    عقل والے کیا سمجھ پائیں جنوں کی وسعتوں کو

    عشق کے بازار میں تو بس خسارے بولتے ہیں

    ٹوٹ جاتے ہیں جہاں پر زندگی کے سب تعلق

    اس جگہ پر غیبی رحمت کے سہارے بولتے ہیں

    بند آنکھوں میں ہمیشہ حسن کا جلوہ عیاں ہے

    خواب کی ان وادیوں میں گم نظارے بولتے ہیں

    عشق میں المیرؔ ہم نے ہونٹ اپنے سی لیے ہیں

    اشک آنکھوں سے گریں تو بن پکارے بولتے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے