لفظ سارے تھک چکے ہیں استعارے بولتے ہیں
لفظ سارے تھک چکے ہیں استعارے بولتے ہیں
شوخ سی اس خامشی میں دل ہمارے بولتے ہیں
فرش پر جب کوئی عاشق درد سے آہیں بھرے ہے
عرش کی پہنائیوں میں تب ستارے بولتے ہیں
کشتیاں جب ڈگمگائیں حوصلے مت ہارنا تم
بحر غم میں ڈوبتے کو خود کنارے بولتے ہیں
عشق کی اس راکھ کو تم سرد مت سمجھو خدارا
اک بجھے تاریک دل میں سو شرارے بولتے ہیں
عقل والے کیا سمجھ پائیں جنوں کی وسعتوں کو
عشق کے بازار میں تو بس خسارے بولتے ہیں
ٹوٹ جاتے ہیں جہاں پر زندگی کے سب تعلق
اس جگہ پر غیبی رحمت کے سہارے بولتے ہیں
بند آنکھوں میں ہمیشہ حسن کا جلوہ عیاں ہے
خواب کی ان وادیوں میں گم نظارے بولتے ہیں
عشق میں المیرؔ ہم نے ہونٹ اپنے سی لیے ہیں
اشک آنکھوں سے گریں تو بن پکارے بولتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.