غبار راہ ہو کر چشم مردم میں محل پایا
غبار راہ ہو کر چشم مردم میں محل پایا
نہال خاکساری کو لگا کر ہم نے پھل پایا
برنگ شمع ہم دل سوختوں نے بزم عالم میں
زباں کھولی نہ لیکن بات کرنے کا محل پایا
رعونت کون سی شے پر ہے ان عزلت گزینوں کو
حصیر کہنہ دیکھا دست خشک و پائے شل پایا
غضب ہے منزل ہستی میں آسائش طلب ہونا
ہجوم خواب سے رہرو نے ہے آخر خلل پایا
ہمیشہ جوش گریہ سے رہا پانی میں اے آتشؔ
کبھی تازہ نہ لیکن اپنے دل کا یہ کنول پایا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.