ساحل پہ کھڑے ہو کے تماشا نہیں کرتے
ساحل پہ کھڑے ہو کے تماشا نہیں کرتے
ہم ڈوبتی کشتی کا نظارا نہیں کرتے
طوفاں سے لڑا دیتے ہیں جو اپنا سفینہ
ساحل کو کبھی اپنا کنارا نہیں کرتے
تم دھوپ کے صحرا میں کسے ڈھونڈ رہے ہو
یہ جھاڑ ہیں کانٹوں کے جو سایا نہیں کرتے
اب پاس مرے کچھ بھی نہیں ہے جو لٹا دوں
ہم دوستی اے دوست دوبارا نہیں کرتے
خوشبو ہے تری یاد کی ہر وقت مرے ساتھ
ہم پھول کی خوشبو پہ گزارا نہیں کرتے
ہر گوشۂ دل میں تری تصویر لگی ہے
ہم نقش کوئی اور اتارا نہیں کرتے
آنکھوں کے اشارے سے بلا سکتے ہیں جو بھی
وہ نام کبھی لے کے پکارا نہیں کرتے
جو لوگ تقیؔ حسن کی عظمت کے ہیں قائل
وہ حسن کو پردوں میں گوارا نہیں کرتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.