Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ساحل پہ کھڑے ہو کے تماشا نہیں کرتے

تقی عابدی

ساحل پہ کھڑے ہو کے تماشا نہیں کرتے

تقی عابدی

MORE BYتقی عابدی

    ساحل پہ کھڑے ہو کے تماشا نہیں کرتے

    ہم ڈوبتی کشتی کا نظارا نہیں کرتے

    طوفاں سے لڑا دیتے ہیں جو اپنا سفینہ

    ساحل کو کبھی اپنا کنارا نہیں کرتے

    تم دھوپ کے صحرا میں کسے ڈھونڈ رہے ہو

    یہ جھاڑ ہیں کانٹوں کے جو سایا نہیں کرتے

    اب پاس مرے کچھ بھی نہیں ہے جو لٹا دوں

    ہم دوستی اے دوست دوبارا نہیں کرتے

    خوشبو ہے تری یاد کی ہر وقت مرے ساتھ

    ہم پھول کی خوشبو پہ گزارا نہیں کرتے

    ہر گوشۂ دل میں تری تصویر لگی ہے

    ہم نقش کوئی اور اتارا نہیں کرتے

    آنکھوں کے اشارے سے بلا سکتے ہیں جو بھی

    وہ نام کبھی لے کے پکارا نہیں کرتے

    جو لوگ تقیؔ حسن کی عظمت کے ہیں قائل

    وہ حسن کو پردوں میں گوارا نہیں کرتے

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے