فصیل جسم میں نشتر اتارے جائیں گے
فصیل جسم میں نشتر اتارے جائیں گے
سبھی بھرے ہوئے گھاؤ ابھارے جائیں گے
یہ بزم دنیا ہے مشروط واپسی سے میاں
یہاں پہ آئیں گے جتنے وہ سارے جائیں گے
مقام شکر کہ ہم لوگ جی رہے ہیں ابھی
مقام فکر کہ ہم لوگ مارے جائیں گے
سوال یہ نہیں کشتی میں چھید کس نے کیا
سوال یہ ہے کہ کیسے کنارے جائیں گے
خدا کی ذات سے امید ہے مجھے کاشفؔ
سیاہ بخت بھی اک دن سنوارے جائیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.