تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا
تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا
جو ہوا جو بھی ہوا بھرپور شیطانی ہوا
اس کشش میں کیا نہیں تھا جو بھی تھا بہتا گیا
وہ بدن میری تپش سے سر بسر پانی ہوا
وہ جو تھا پیکر مرے پیکر پہ اب وہ ہے وہاں
کیا ہوا جو میرا عشق اک دم سے روحانی ہوا
جم کے ٹوٹا ہے لہو قلب و جگر کی بات کیا
کیوں نہ جانے تیرا موسم مجھ میں برفانی ہوا
آ گئی شب صحن میں بیٹھے بٹھائے اک کشش
ماند سبزہ میرے گھر کا رات کی رانی ہوا
میرے اندر ہو رہی تھی غم کی رم جھم بن رکے
قطرہ قطرہ مل کے دیکھا میں نے طغیانی ہوا
سوچ تک محدود کب تھا ماجرا اس عشق کا
ایک ہی لمحے میں سب کچھ کیف نفسانی ہوا
حرف جب حد سے بڑھے تو شعر خود ہی ہو گئے
میرا چپ رہنا بھی میرے حق میں نورانی ہوا
اے خدا کتنوں کے دل میں ہے بسا تیرا یقیں
کیا ستم ہے تو بھی مجھ میں آ کے امکانی ہوا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.