Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا

سید نیر مقیت

تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا

سید نیر مقیت

MORE BYسید نیر مقیت

    تھی ضرورت عشق کی وہ سب بہ آسانی ہوا

    جو ہوا جو بھی ہوا بھرپور شیطانی ہوا

    اس کشش میں کیا نہیں تھا جو بھی تھا بہتا گیا

    وہ بدن میری تپش سے سر بسر پانی ہوا

    وہ جو تھا پیکر مرے پیکر پہ اب وہ ہے وہاں

    کیا ہوا جو میرا عشق اک دم سے روحانی ہوا

    جم کے ٹوٹا ہے لہو قلب و جگر کی بات کیا

    کیوں نہ جانے تیرا موسم مجھ میں برفانی ہوا

    آ گئی شب صحن میں بیٹھے بٹھائے اک کشش

    ماند سبزہ میرے گھر کا رات کی رانی ہوا

    میرے اندر ہو رہی تھی غم کی رم جھم بن رکے

    قطرہ قطرہ مل کے دیکھا میں نے طغیانی ہوا

    سوچ تک محدود کب تھا ماجرا اس عشق کا

    ایک ہی لمحے میں سب کچھ کیف نفسانی ہوا

    حرف جب حد سے بڑھے تو شعر خود ہی ہو گئے

    میرا چپ رہنا بھی میرے حق میں نورانی ہوا

    اے خدا کتنوں کے دل میں ہے بسا تیرا یقیں

    کیا ستم ہے تو بھی مجھ میں آ کے امکانی ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے