نئی غزل نئے لہجے کی آبرو ہم تھے
نئی غزل نئے لہجے کی آبرو ہم تھے
وہ ایک دور تھا موضوع گفتگو ہم تھے
کسی نے پچھلے پہر نیند سے جگایا ہمیں
جو آنکھ میچ کے دیکھا تو ہو بہ ہو ہم تھے
تمہاری شمع ہدایت تو جل بجھی تھی مگر
تمام رات ہواؤں کے رو بہ رو ہم تھے
تڑپ رہے تھے جبین نیاز میں سجدے
مگر وہ پاس سے گزرا تو بے وضو ہم تھے
کوئی نہیں تھا تمھارے سوا یہاں غالبؔ
یہ اور بات ہے اخترؔ کبھو کبھو ہم تھے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.