جو تو نہیں ہے تو جینے کی آرزو بھی نہیں
جو تو نہیں ہے تو جینے کی آرزو بھی نہیں
سکون دل کو ملے ایسی جستجو بھی نہیں
تمام عمر کا وعدہ تھا ساتھ جینے کا
ہوا کچھ ایسا کہ ہم آئے روبرو بھی نہیں
لٹا دیا ہے ہر اک چیز عشق میں میں نے
کہ میرے پاس تو اب میری آبرو بھی نہیں
ہمارا دل ہے نہ جانے کہاں بہت ڈھونڈا
تمہارے پاس نہیں اور کو بہ کو بھی نہیں
نہیں نہیں مجھے تم اور زخم مت دینا
پرانا زخم جگر تو ابھی رفو بھی نہیں
وہ دور دور محبت کی مشکلیں دانشؔ
سمجھ سکے نہ مجھے لوگ اور تو بھی نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.