اک دیا بجھنے سے پہلے رات بھڑکا تھا بہت
اک دیا بجھنے سے پہلے رات بھڑکا تھا بہت
خود فریبوں میں ہے لیکن صبح کا غوغا بہت
آندھیاں تو تیز تھیں ربط شجر کام آ گیا
یوں تو تنہا زرد پتا پیڑ پر لرزا بہت
دے سکی اب تک نہ میری تیرہ بختی کا جواب
زندگی سے ہر دہان زخم نے پوچھا بہت
یوں تو تھا تیرا تبسم ایک سادہ سا فریب
آرزو کی سادہ لوحی نے اسے سمجھا بہت
جستجوئے پیکر نا آفریدہ میں کٹی
زندگی سے ہم نے کچھ پایا نہیں کھویا بہت
اب کوئی ابر بہاراں لائیے سوئے چمن
جلتے ہیں پھولوں کے لب ہر پتا ہے پیاسا بہت
میکشوں کے لب ہی جلتے ہیں جگر جلتے نہیں
ہو گیا ہے سرد شاید شعلۂ مینا بہت
شکر ہے دوچار آنکھیں اب تو نم ہونے لگیں
ورنہ ساری زندگی رویا ہوں میں تنہا بہت
گو میں تنہا تھا مگر احساس تنہائی نہ تھا
بے حقیقت سایہ بھی رستے میں کام آیا بہت
توڑ کر پھینکو نعیمیؔ آگہی کا آئنہ
آگہی کا آئنہ بھی دیتا ہے دھوکا بہت
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.