Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

اک دیا بجھنے سے پہلے رات بھڑکا تھا بہت

عبد الحفیظ نعیمی

اک دیا بجھنے سے پہلے رات بھڑکا تھا بہت

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    اک دیا بجھنے سے پہلے رات بھڑکا تھا بہت

    خود فریبوں میں ہے لیکن صبح کا غوغا بہت

    آندھیاں تو تیز تھیں ربط شجر کام آ گیا

    یوں تو تنہا زرد پتا پیڑ پر لرزا بہت

    دے سکی اب تک نہ میری تیرہ بختی کا جواب

    زندگی سے ہر دہان زخم نے پوچھا بہت

    یوں تو تھا تیرا تبسم ایک سادہ سا فریب

    آرزو کی سادہ لوحی نے اسے سمجھا بہت

    جستجوئے پیکر نا آفریدہ میں کٹی

    زندگی سے ہم نے کچھ پایا نہیں کھویا بہت

    اب کوئی ابر بہاراں لائیے سوئے چمن

    جلتے ہیں پھولوں کے لب ہر پتا ہے پیاسا بہت

    میکشوں کے لب ہی جلتے ہیں جگر جلتے نہیں

    ہو گیا ہے سرد شاید شعلۂ مینا بہت

    شکر ہے دوچار آنکھیں اب تو نم ہونے لگیں

    ورنہ ساری زندگی رویا ہوں میں تنہا بہت

    گو میں تنہا تھا مگر احساس تنہائی نہ تھا

    بے حقیقت سایہ بھی رستے میں کام آیا بہت

    توڑ کر پھینکو نعیمیؔ آگہی کا آئنہ

    آگہی کا آئنہ بھی دیتا ہے دھوکا بہت

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے