بتا دے گردش ایام کچھ پتہ تو چلے
بتا دے گردش ایام کچھ پتہ تو چلے
کہ کتنے ہو گئے ناکام کچھ پتہ تو چلے
کہاں سے رات کا پرچم بلندیوں پہ چڑھا
کہاں پہ قتل ہوئی شام کچھ پتہ تو چلے
اسی ادا سے پئیں گے ہمیں بتا تو سہی
کہ اس میں زہر ہے یا جام کچھ پتہ تو چلے
اب اور کتنا ہمیں بے حسی میں ڈھلنا ہے
بتا دے حسرت ناکام کچھ پتہ تو چلے
کیا تھا یاد اسے ذہن نے کہ دل نے ندیمؔ
مچا کہاں سے تھا کہرام کچھ پتہ تو چلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.