جس جگہ تک ترے قدموں کے نشاں جائیں گے
جس جگہ تک ترے قدموں کے نشاں جائیں گے
تیرے دیوانے وہاں سجدہ کناں جائیں گے
خواہ کرتے ہوئے فریاد و فغاں جائیں گے
تیری درگاہ سے نکلے تو کہاں جائیں گے
ہم نے تکلیف چھپانے کی ریاضت کی ہے
مسکراتے ہوئے جائیں گے جہاں جائیں گے
حرم شیخ میں کچھ کام نہیں رندوں کا
صاف ظاہر ہے کہ پھر سوئے بتاں جائیں گے
کوئی معیار کا مقتل تو سجایا جائے
ہم چڑھاتے ہوئے نذرانۂ جاں جائیں گے
تیرے جلوؤں کی تب و تاب اگر دیکھ سکیں
رقص کرتے ہوئے سب پیر و جواں جائیں گے
بزم جاناں میں نہ جانے کی قسم دے نہ سحرؔ
ہم تو یہ ٹھان کے بیٹھے ہیں کہ ہاں جائیں گے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.