Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

بادۂ کہنہ کے پھر زیر اثر ہونے تک

جواد سرور سید

بادۂ کہنہ کے پھر زیر اثر ہونے تک

جواد سرور سید

MORE BYجواد سرور سید

    بادۂ کہنہ کے پھر زیر اثر ہونے تک

    ترک الفت کریں ہم بار دگر ہونے تک

    اول عشق میں ہوتا نہیں احساس جنوں

    بت خوش رو کے مگر رشک قمر ہونے تک

    ہم کو درپیش ہے پھر ایک سفر لا حاصل

    گرد ہو جائیں گے ہم گرم سفر ہونے تک

    دیدۂ شوق دکھاتا ہے تماشے کیا کیا

    نور رہتا ہے فقط نور نظر ہونے تک

    خون دل سے ہی لکھی جاتی ہے تقدیر کی لوح

    یہ اجالا ہے فقط جزو شرر ہونے تک

    یعنی جل بجھنے پہ موقوف ہے شمع ہستی

    زندگی رقص میں ہے عرض ہنر ہونے تک

    سر بلندی کی تمنا تو سبھی کرتے ہیں

    سر مگر رہتا نہیں صاحب سر ہونے تک

    اک منادی یہاں ہر گام صدا دیتا ہے

    کارواں ساتھ ہے یہ طے ہے سفر ہونے تک

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے