بادۂ کہنہ کے پھر زیر اثر ہونے تک
بادۂ کہنہ کے پھر زیر اثر ہونے تک
ترک الفت کریں ہم بار دگر ہونے تک
اول عشق میں ہوتا نہیں احساس جنوں
بت خوش رو کے مگر رشک قمر ہونے تک
ہم کو درپیش ہے پھر ایک سفر لا حاصل
گرد ہو جائیں گے ہم گرم سفر ہونے تک
دیدۂ شوق دکھاتا ہے تماشے کیا کیا
نور رہتا ہے فقط نور نظر ہونے تک
خون دل سے ہی لکھی جاتی ہے تقدیر کی لوح
یہ اجالا ہے فقط جزو شرر ہونے تک
یعنی جل بجھنے پہ موقوف ہے شمع ہستی
زندگی رقص میں ہے عرض ہنر ہونے تک
سر بلندی کی تمنا تو سبھی کرتے ہیں
سر مگر رہتا نہیں صاحب سر ہونے تک
اک منادی یہاں ہر گام صدا دیتا ہے
کارواں ساتھ ہے یہ طے ہے سفر ہونے تک
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.