کبھی تو ملے گا سکون جگر
کبھی تو ملے گا سکون جگر
کہیں تو رکے گا یہ رخت سفر
یہ دنیا ہے اک عارضی جلوہ گاہ
نہ کر تو یہاں پر قیام سحر
لہو بیچ کر جو کمایا گیا
وہی رزق ہے بس مرا معتبر
عبث ہے یہ شکوہ عبث یہ گلہ
نصیبوں کا لکھا ہے پیش نظر
وہ سورج ہو تم جس کی تابندگی
اندھیروں میں لاتی ہے نور سحر
جو دریا کی موجوں سے لڑتے رہے
انہیں کو ملا ہے کنارہ مگر
نہ بحروں سے واقف نہ اوزان سے
مگر نام رکھا ہے اہل اثر
غم روزگار جہاں کچھ نہیں
ترا غم اگر ہے مرا ہم سفر
ترا حرف حق ہے زمانے کی جان
رؤفؔ اب ہے تیرا ہی سکہ ادھر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.