Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں

علی جواد زیدی

جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں

علی جواد زیدی

جو مقصد گریۂ پیہم کا ہے وہ ہم سمجھتے ہیں

مگر جن کو سمجھنا چاہیئے تھا کم سمجھتے ہیں

ذرا میرے جنوں کی کاوش تعمیر تو دیکھیں

جو بزم زندگی کو درہم و برہم سمجھتے ہیں

ان آنکھوں میں نہیں نشتر خود اپنے دل میں پنہاں ہے

اب اتنی بات تو کچھ ہم بھی اے ہمدم سمجھتے ہیں

یہ ان کی مہربانی ہے یہ ان کی عزت افزائی

کہ میرے زخم کو وہ لائق مرہم سمجھتے ہیں

ہم اہل دل نے معیار محبت بھی بدل ڈالے

جو غم ہر فرد کا غم ہے اسی کو غم سمجھتے ہیں

جھجکتے سے قدم بہکی سی نظریں رکتی سی باتیں

یہ انداز تجاہل وہ ہے جس کو ہم سمجھتے ہیں

سلوک دوست بھی ہے اک اشارہ تیزگامی کا

ہم اہل کارواں آنچل کو بھی پرچم سمجھتے ہیں

ہٹو اہل خرد اہل جنوں کو جانے دو آگے

وہی کچھ راہ ہستی کے یہ پیچ و خم سمجھتے ہیں

پلک سے اس طرح ٹپکا کہ گویا اک کلی چٹکی

ہم اہل درد اشک غم کو بھی شبنم سمجھتے ہیں

خلوص ظاہری روزانہ اک محفل سجاتا ہے

سمجھتے وہ بھی ہیں لیکن ابھی کم کم سمجھتے ہیں

Additional information available

Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

OKAY

About this sher

Lorem ipsum dolor sit amet, consectetur adipiscing elit. Morbi volutpat porttitor tortor, varius dignissim.

Close

rare Unpublished content

This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

OKAY

You have remaining out of free content pages per year. Log In or Register to become a Rekhta Family member to access the full website.

بولیے