بری تقدیر ہو میری مگر اتنی بری کیوں ہو
بری تقدیر ہو میری مگر اتنی بری کیوں ہو
جسے میں دل سے چاہوں جان کا دشمن وہی کیوں ہو
کیا جب رشک کا شکوا تو بولے دل کو سمجھاؤ
اگر دل میرے بس میں ہو تو پھر یہ بات ہی کیوں ہو
وفا تم کو نہیں آتی وفا تو میں نہیں کہتا
جفائیں تو کئے جاؤ جفاؤں میں کمی کیوں ہو
کہا جب میں نے کیا ہو تم اگر ہو میرے پہلو میں
تو بولے وہ گھڑی کیوں آئے ایسی بات ہی کیوں ہو
مجھے عاشق نہ سمجھو خود غرض سمجھو برا سمجھو
یہ سب کچھ ہو مگر اغیار کے سر منصفی کیوں ہو
مکافات ستم پر دلبرو دل میں یہ حجت ہے
وہ کہتا ہے ابھی کیوں ہو یہ کہتا ہے کبھی کیوں ہو
فقط میرے دکھانے کو خفا ہوتے ہیں دشمن سے
اگر دل میں کدورت ہو تو ہونٹوں پر ہنسی کیوں ہو
قمرؔ موت آئے لیکن کوچۂ جاناں میں کیوں آئے
ہمارے نام سے بدنام قاتل کی گلی کیوں ہو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.