پہلے بہشت جاں سے گزارا گیا ہوں میں
پہلے بہشت جاں سے گزارا گیا ہوں میں
پھر رمز معرفت میں اتارا گیا ہوں میں
یہ عشق اب کی بار کہاں لے کے جائے گا
پہلے بھی اس کے ہاتھ سے مارا گیا ہوں میں
اپنی سماعتوں سے مجھے یوں گریز تھا
جانے کے بعد ہی تو پکارا گیا ہوں میں
ان کی منافقت بھی مجھے ہے عزیز تر
اپنوں پہ اس طرح سے بھی وارا گیا ہوں میں
لفظوں کی شال شال نے مجھ کو سجا دیا
سوچوں سے اپنی آپ نکھارا گیا ہوں میں
وہ عشق مر گیا تھا بشرؔ پھر یہ کیا ہوا
کیوں روگ کی لحد میں اتارا گیا ہوں میں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.