یوں چپکے چپکے کسی سے ملا نہیں کرتے
یوں چپکے چپکے کسی سے ملا نہیں کرتے
کسی کے ساتھ بھی ہرگز برا نہیں کرتے
ہر ایک بات پہ کرتے ہو کیوں شکایت تم
محبتوں کے سفر میں گلہ نہیں کرتے
چلو جہاں میں یہ پیغام عام کرتے ہیں
وفا کے بدلے کسی سے جفا نہیں کرتے
مجھے تو ہو گئی عادت تجھے ستانے کی
سو بات بات پہ یوں دل برا نہیں کرتے
کوئی بھی کام کرو تم بڑی شعوری سے
کسی طرح کی کہیں پر خطا نہیں کرتے
یہ سوچ کر ہی فقط ڈر رہا تھا ہجرت سے
بچھڑ کے عشق میں عاشق جیا نہیں کرتے
خدا کے فضل سے پایا ہے مرتبہ یہ عظیمؔ
کسی کو دیکھ کے ایسے جلا نہیں کرتے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.