عشق کے روح پاک کو تحفۂ غم سے شاد کر
عشق کے روح پاک کو تحفۂ غم سے شاد کر
اپنی جفا کو یاد کر میری وفا کو یاد کر
جان کو محو غم بنا دل کو وفا نہاد کر
بندۂ عشق ہے تو یوں قطع رہ مراد کر
غمزۂ دل فریب کو اور بھی جاں فزا بنا
پیکر ناز و حسن پر رنگ حیا زیاد کر
اے کہ نجات ہند کی دل سے ہے تجھ کو آرزو
ہمت سر بلند سے یاس کا انسداد کر
قول کو زید و عمر کے حد سے سوا اہم نہ جان
روشنیٔ ضمیر میں عقل سے اجتہاد کر
حق سے یہ عذر مصلحت وقت پہ جو کرے گریز
اس کو نہ پیشوا سمجھ اس پہ نہ اعتماد کر
خدمت اہل جور کو کر نہ قبول زینہار
فن و ہنر کے زور سے عیش کو خانہ زاد کر
غیر کی جد و جہد پر تکیہ نہ کر کہ ہے گناہ
کوشش ذات خاص پر ناز کر اعتماد کر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.