ہاتھ رسماً تو یہاں سب سے ملایا جائے
ہاتھ رسماً تو یہاں سب سے ملایا جائے
یہ ضروری تو نہیں دل میں بسایا جائے
گو کہ معلوم ہے ہم کو تری عادت لیکن
ہم نبھائیں گے جہاں تک بھی نبھایا جائے
عیب جوئی میں لگے رہتے ہیں جو اوروں کی
کیوں نہ اب ان کو بھی آئینہ دکھایا جائے
ہم تو بدلے میں جفاؤں کے وفا کرتے رہے
ہم نے کیا جرم کیا یہ تو بتایا جائے
ہو گئے ختم سبھی راہ کے کانٹے مومنؔ
پاؤں کہتے ہیں لہو اور بہایا جائے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.