Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

جاؤ مجھے ڈراؤ نہ کار ملال سے

عمیر نجمی

جاؤ مجھے ڈراؤ نہ کار ملال سے

عمیر نجمی

MORE BYعمیر نجمی

    جاؤ مجھے ڈراؤ نہ کار ملال سے

    یہ کام کر رہا ہوں میں بتیس سال سے

    پہلے تو ناخنوں سے تراشے کئی پہاڑ

    پھر اس کے بعد زخم کریدے کدال سے

    کھلتی تھی اک مکان کی کھڑکی جنوبی سمت

    سورج طلوع ہوتا تھا میرا شمال سے

    ایسا نہیں کہ ہجر ہوا مجھ میں صرف جذب

    ظاہر بھی ہو رہا ہے مرے خد و خال سے

    یہ زخم اس کا آخری تحفہ ہے کچھ کرو

    کچھ بھی کرو بچاؤ اسے اندمال سے

    اک ہجر ممکنہ مرے کافی قریب ہے

    دیمک ذرا سی دور ہے لکڑی کے ٹال سے

    مأخذ :
    • کتاب : آخری تصویر (Pg. 22)
    • Author : عمیر نجمی
    • مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2024)
    • اشاعت : First

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے