جاؤ مجھے ڈراؤ نہ کار ملال سے
جاؤ مجھے ڈراؤ نہ کار ملال سے
یہ کام کر رہا ہوں میں بتیس سال سے
پہلے تو ناخنوں سے تراشے کئی پہاڑ
پھر اس کے بعد زخم کریدے کدال سے
کھلتی تھی اک مکان کی کھڑکی جنوبی سمت
سورج طلوع ہوتا تھا میرا شمال سے
ایسا نہیں کہ ہجر ہوا مجھ میں صرف جذب
ظاہر بھی ہو رہا ہے مرے خد و خال سے
یہ زخم اس کا آخری تحفہ ہے کچھ کرو
کچھ بھی کرو بچاؤ اسے اندمال سے
اک ہجر ممکنہ مرے کافی قریب ہے
دیمک ذرا سی دور ہے لکڑی کے ٹال سے
- کتاب : آخری تصویر (Pg. 22)
- Author : عمیر نجمی
- مطبع : ریختہ پبلی کیشنز (2024)
- اشاعت : First
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.