نئے خیال نئے ساز کی ضرورت ہے
نئے خیال نئے ساز کی ضرورت ہے
غزل میں اب نئے انداز کی ضرورت ہے
نرالی فکر ہو تہ داریٔ معانی بھی
یہاں بلندیٔ پرواز کی ضرورت ہے
رفیق دل جو بنے سچ کی ترجمانی کرے
معاشرے کو اس آواز کی ضرورت ہے
ہوئے تھے جس سے حریفوں کے حوصلے پسپا
اسی پہل اسی آغاز کی ضرورت ہے
کیا تھا قلب میں جس وصف نے اثر پیدا
سخن میں پھر اسی اعجازؔ کی ضرورت ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.