Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

کیسے کیسے محبت کے مارے ہوئے بہر اظہار آئے لجائے گئے

سحر بلرام پوری

کیسے کیسے محبت کے مارے ہوئے بہر اظہار آئے لجائے گئے

سحر بلرام پوری

MORE BYسحر بلرام پوری

    کیسے کیسے محبت کے مارے ہوئے بہر اظہار آئے لجائے گئے

    وہ تو ہم تھے کہ جو تم سے جھجکے نہیں مدعا کہہ دیا مسکرائے گئے

    بے وفا بے مروت بد اندیش ہو تند خو سنگ دل ہو دغا باز ہو

    اچھے خاصے ہنر تم میں موجود تھے ایک اک کر کے سارے گنائے گئے

    گرد اڑتی رہی نقش مٹتے رہے دھیرے دھیرے تم آنکھوں سے اوجھل ہوئے

    وقت رخصت ہمارا عجب حال تھا دیر تک ہاتھ اپنے ہلائے گئے

    تم نے دیکھی نہیں آنسوؤں کی لڑی ہچکیاں سسکیاں آہ نالے فغاں

    دیکھتے تو کچھ احساس ہوتا تمہیں ہجر میں کتنے اعزاز پائے گئے

    بات بے بات دنیا نے پنگے لیے بارہا مات دینے کی سازش رچی

    سرخ روئی ہمارا مقدر بنی باوجود اس کے ہم آزمائے گئے

    درد بڑھتا رہا ٹیس اٹھتی رہی زخم روتے رہے شعر ہوتے رہے

    دل دہی کے عوض واہ واہی ملی دھیرے دھیرے سب اپنے پرائے گئے

    بزم جاناں میں ہر کوئی غمگین تھا کارگر کوئی ترکیب ہوتی نہ تھی

    سب کے چہروں پہ آئی نہ جب تک ہنسی ہم سحرؔ کی غزل گنگنائے گئے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے