کیسے کیسے محبت کے مارے ہوئے بہر اظہار آئے لجائے گئے
کیسے کیسے محبت کے مارے ہوئے بہر اظہار آئے لجائے گئے
وہ تو ہم تھے کہ جو تم سے جھجکے نہیں مدعا کہہ دیا مسکرائے گئے
بے وفا بے مروت بد اندیش ہو تند خو سنگ دل ہو دغا باز ہو
اچھے خاصے ہنر تم میں موجود تھے ایک اک کر کے سارے گنائے گئے
گرد اڑتی رہی نقش مٹتے رہے دھیرے دھیرے تم آنکھوں سے اوجھل ہوئے
وقت رخصت ہمارا عجب حال تھا دیر تک ہاتھ اپنے ہلائے گئے
تم نے دیکھی نہیں آنسوؤں کی لڑی ہچکیاں سسکیاں آہ نالے فغاں
دیکھتے تو کچھ احساس ہوتا تمہیں ہجر میں کتنے اعزاز پائے گئے
بات بے بات دنیا نے پنگے لیے بارہا مات دینے کی سازش رچی
سرخ روئی ہمارا مقدر بنی باوجود اس کے ہم آزمائے گئے
درد بڑھتا رہا ٹیس اٹھتی رہی زخم روتے رہے شعر ہوتے رہے
دل دہی کے عوض واہ واہی ملی دھیرے دھیرے سب اپنے پرائے گئے
بزم جاناں میں ہر کوئی غمگین تھا کارگر کوئی ترکیب ہوتی نہ تھی
سب کے چہروں پہ آئی نہ جب تک ہنسی ہم سحرؔ کی غزل گنگنائے گئے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.