ٹپکے ہیں اشک خوں جو برابر ادھر ادھر
ٹپکے ہیں اشک خوں جو برابر ادھر ادھر
ٹکڑے ہیں یہ جگر کے زمیں پر ادھر ادھر
لایا ہے رنگ خون شہیدان آرزو
گھبرا کے دیکھتا ہے ستمگر ادھر ادھر
پہلو بدل بدل کے گزاری شب فراق
ایسے چبھے ہیں پہلو میں نشتر ادھر ادھر
کیسے الگ کرے کوئی ظلمت کو نور سے
ہے زلف شام صبح کے رخ پر ادھر ادھر
ان کے جبین و عارض و بازو کے دو بہ دو
بکھری ہوئی ہے زلف معنبر ادھر ادھر
ہے باغباں کے گوشۂ دل میں وہ جلوہ گر
گلچیں کو کیا ملے گا گل تر ادھر ادھر
رہرو کو کیا ملے گی کبھی منزل حیات
راہ طلب میں بھٹکا ہے رہبر ادھر ادھر
بیٹھا ہوں انتظار میں آیا نہ میرے ہاتھ
گھوما ہے گو کہ بزم میں ساغر ادھر ادھر
دامن متینؔ ان کا درخشاں ہے اس طرح
جیسے گرے ہوں آنکھ سے گوہر ادھر ادھر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.