جو خواب نہ شرمندۂ تعبیر ہوا تھا
جو خواب نہ شرمندۂ تعبیر ہوا تھا
قسمت میں وہ انسان کی تحریر ہوا تھا
کل میں جو گرفتار اساطیر ہوا تھا
تصویر کوئی دیکھ کے تصویر ہوا تھا
سچ ہے کہ ہے دیوانی جوانی جسے کہئے
مجنوں بھی اسی عمر میں زنجیر ہوا تھا
جس دور میں مبعوث ہوا آدم ثالث
مریخ اسی دور میں تسخیر ہوا تھا
بیتاب نہ ہو غفلت احباب پہ اے دل
اک دن میں تو لاہور نہ تعمیر ہوا تھا
لو آج مرے در پئے آزار ہے انجمؔ
کل مجھ سے یہی شخص بغل گیر ہوا تھا
- مطبع : احمد ندیم قاسمی (1963)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.