عدم کے مسافر تو سب ہیں مگر
عدم کے مسافر تو سب ہیں مگر
نہیں ہے کسی کا کوئی ہم سفر
میں روتا نہیں ہوں انہیں دیکھ کر
تمازت سے جلوے کی ہے چشم تر
نہیں وہ کہاں اور کب جلوہ گر
اگر آنکھ میں ہو شعور نظر
دعا میں خلوص دعا ہو اگر
چلا آئے گا ہاتھ باندھے اثر
جب اس رخ سے گیسو ہٹائے گئے
گلے مل کے بچھڑے ہیں شام و سحر
مرے ڈوبنے تک ہے اس کا وجود
مجھے رحم آتا ہے طوفان پر
نہ ہو کیوں امید آدمی کو عدیلؔ
یہ دنیا ہی قائم ہے امید پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.