Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

عدم کے مسافر تو سب ہیں مگر

نظیر علی عدیل

عدم کے مسافر تو سب ہیں مگر

نظیر علی عدیل

MORE BYنظیر علی عدیل

    عدم کے مسافر تو سب ہیں مگر

    نہیں ہے کسی کا کوئی ہم سفر

    میں روتا نہیں ہوں انہیں دیکھ کر

    تمازت سے جلوے کی ہے چشم تر

    نہیں وہ کہاں اور کب جلوہ گر

    اگر آنکھ میں ہو شعور نظر

    دعا میں خلوص دعا ہو اگر

    چلا آئے گا ہاتھ باندھے اثر

    جب اس رخ سے گیسو ہٹائے گئے

    گلے مل کے بچھڑے ہیں شام و سحر

    مرے ڈوبنے تک ہے اس کا وجود

    مجھے رحم آتا ہے طوفان پر

    نہ ہو کیوں امید آدمی کو عدیلؔ

    یہ دنیا ہی قائم ہے امید پر

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے