ایک ہنگامہ بپا ہے دل بیمار کے بیچ
ایک ہنگامہ بپا ہے دل بیمار کے بیچ
زندگی قید ہے امید کی دیوار کے بیچ
ایک ہم ہیں کہ خسارے ہی اٹھائے ہم نے
ایک وہ ہیں کہ جو نفعے میں ہیں ہنکار کے بیچ
تیغ منصف کی بھی پیاسی ہے لہو کی میرے
میں تو مجرم ہوں کھڑا ہوں ترے دربار کے بیچ
اب کوئی خواب دھڑکتا ہی نہیں ہے اس میں
برف جمنے لگی انسان کے پندار کے بیچ
صرف تاریخ کی جلدوں میں نہیں لکھا ہے
ایک مقتل ہے چھپا وقت کی رفتار کے بیچ
روشنی مانگنے نکلے تھے جو اس بستی سے
اب وہ خود جلتے ہیں اس شہر سیہ کار کے بیچ
خاک اڑتی ہے جہاں خواب سجا کرتے تھے
وحشتیں رقص میں ہیں اب کے شب تار کے بیچ
اپنی مٹی کی حیا بیچ کے پایا ہے جو
طوق بن کر وہ گرے گا ترے پندار کے بیچ
صرف نیزوں پہ ہی سچائی نہیں روشن ہے
سچ تو مقتل میں بھی چمکا ہے شب تار کے بیچ
اب کے منصف بھی گواہوں کی صفوں میں ہے کھڑا
جانے کیا عدل ہوا ہے ترے دربار کے بیچ
حق کی آواز اٹھانا ہی مقدر ہے اسدؔ
خواہ سر جائے یہاں مقتل و بازار کے بیچ
دیکھنا معجزۂ عشق و جنوں اب کے اسدؔ
پھر کوئی کلمہ پڑھے گا رسن و دار کے بیچ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.