Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ایک ہنگامہ بپا ہے دل بیمار کے بیچ

محمد اسد علی وڑائچ

ایک ہنگامہ بپا ہے دل بیمار کے بیچ

محمد اسد علی وڑائچ

MORE BYمحمد اسد علی وڑائچ

    ایک ہنگامہ بپا ہے دل بیمار کے بیچ

    زندگی قید ہے امید کی دیوار کے بیچ

    ایک ہم ہیں کہ خسارے ہی اٹھائے ہم نے

    ایک وہ ہیں کہ جو نفعے میں ہیں ہنکار کے بیچ

    تیغ منصف کی بھی پیاسی ہے لہو کی میرے

    میں تو مجرم ہوں کھڑا ہوں ترے دربار کے بیچ

    اب کوئی خواب دھڑکتا ہی نہیں ہے اس میں

    برف جمنے لگی انسان کے پندار کے بیچ

    صرف تاریخ کی جلدوں میں نہیں لکھا ہے

    ایک مقتل ہے چھپا وقت کی رفتار کے بیچ

    روشنی مانگنے نکلے تھے جو اس بستی سے

    اب وہ خود جلتے ہیں اس شہر سیہ کار کے بیچ

    خاک اڑتی ہے جہاں خواب سجا کرتے تھے

    وحشتیں رقص میں ہیں اب کے شب تار کے بیچ

    اپنی مٹی کی حیا بیچ کے پایا ہے جو

    طوق بن کر وہ گرے گا ترے پندار کے بیچ

    صرف نیزوں پہ ہی سچائی نہیں روشن ہے

    سچ تو مقتل میں بھی چمکا ہے شب تار کے بیچ

    اب کے منصف بھی گواہوں کی صفوں میں ہے کھڑا

    جانے کیا عدل ہوا ہے ترے دربار کے بیچ

    حق کی آواز اٹھانا ہی مقدر ہے اسدؔ

    خواہ سر جائے یہاں مقتل و بازار کے بیچ

    دیکھنا معجزۂ عشق و جنوں اب کے اسدؔ

    پھر کوئی کلمہ پڑھے گا رسن و دار کے بیچ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے