دل مرا ہر ایک پر یونہی فدا ہوتا نہیں
دل مرا ہر ایک پر یونہی فدا ہوتا نہیں
فطرتاً ہر ایک تجھ سا بے وفا ہوتا نہیں
دل مرا ہے آشنائے بے وفا و با وفا
بے وفا ہو جائے جو وہ با وفا ہوتا نہیں
میرا دل ہے تیرے دل سے تیرا مجھ سے آشنا
آشنا ہوں جن کے دل پھر ان سے کیا ہوتا نہیں
چھوڑ جائے جو کبھی بھی تم کو تنہا راہ میں
جان لو کہ وہ کبھی بھی رہنما ہوتا نہیں
بے وفا کہتے ہیں مجھ کو لوگ اس کے شہر کے
بے وفا کہنے سے کوئی بے وفا ہوتا نہیں
جو بدلتا ہے وہ انداز ستم ہے ارسلانؔ
ورنہ اس دنیا میں کوئی غم نیا ہوتا نہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.