میں نے گر کھولی زباں تو کیا سے کیا ہو جائے گا
میں نے گر کھولی زباں تو کیا سے کیا ہو جائے گا
کچھ نہ کچھ اچھا نہیں تو کچھ برا ہو جائے گا
اتنا جھک کر ان سے ملنے کی ضرورت ہی نہیں
وہ تو اک انسان ہے کیا وہ خدا ہو جائے گا
دل میں ایماں کی حرارت ہے تو پھر کیا سوچنا
سطح دریا پر بھی اک دن راستہ ہو جائے گا
آمد دور خزاں سے اتنا رنجیدہ نہ ہو
سبز موسم آتے ہی پتا ہرا ہو جائے گا
میں نے اس سے مسکرا کر اس سے دل کی بات کی
کیا خبر تھی میرا محسن یوں خفا ہو جائے گا
دل کی گہرائی سے جس کو میں نے چاہا تھا کبھی
چلتے چلتے راہ میں مجھ سے جدا ہو جائے گا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.