فقر و فاقہ رنج و غم اور شادمانی کے اصول
فقر و فاقہ رنج و غم اور شادمانی کے اصول
علم نے ہم کو سکھائے زندگانی کے اصول
حال کچھ بھی ہو نئی شاخیں قلم کرتے نہیں
باغبانو ہم سے سیکھو باغبانی کے اصول
اس کے لہجے میں عجب اک رنگ دل آویز ہے
جانتا ہے کس قدر وہ حکمرانی کے اصول
سب اصول و ضابطے طاقت پہ ہی موقوف ہیں
بھول جاؤ گے بڑھاپے میں جوانی کے اصول
درس عبرت دے گیا ہے اک بھروسہ عمر میں
دست بستہ رہ گئے سارے کہانی کے اصول
عمر بھر کی دوریاں اور ہجرتیں منظور کیں
کتنے مستحکم بنائے عمر فانی کے اصول
یار اظہرؔ تم جواں ہو تو جواں باتیں کرو
کیوں بڑھاپے سے مشابہ ہیں جوانی کے اصول
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.