اس طرح بھی تو خدا ہی کی عبادت کی ہے
اس طرح بھی تو خدا ہی کی عبادت کی ہے
ہم نے ہر دور میں انساں سے محبت کی ہے
روشنی بانٹتے رہنا ہے ہمارا شیوہ
ہم نے جلتے ہوئے سورج سے رفاقت کی ہے
زلفوں کے سائے میں آرام بھلا کیا کرتے
ہم نے صحرا کی تپش میں بھی ریاضت کی ہے
کانچ کے گھر میں سجا کر ہمیں رکھا اس نے
ہم نے تو سنگ در جاں کی حفاظت کی ہے
ہم نے اشکوں سے لکھا اپنی وفا کا قصہ
اور غزلوں میں بیاں دل کی حکایت کی ہے
غم کے پردے میں جو ہنستے ہیں سمجھ سکتے ہیں
کس جگہ ہم سے تبسم نے بغاوت کی ہے
شاعری نے ہی دیا نام زمانے میں ہمیں
آرزوؔ ہم نے سخن کی ہی حمایت کی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.