یوں احتجاج کی صورت بحال کرنے لگی
یوں احتجاج کی صورت بحال کرنے لگی
میں اپنی ذات سے چبھتے سوال کرنے لگی
کسی کے طنز کے باعث ہنر عطا ہوا ہے
یوں ہی نہیں میں اچانک کمال کرنے لگی
حقیقی عکس سے میں آشنا ہوئی جب سے
خود آئنے کی بہت دیکھ بھال کرنے لگی
کوئی بھی وقت ہو ہٹتا نہیں ہے اک سایہ
میں اک دریچے کو کتنا نہال کرنے لگی
اندھیرا چھٹنے سے پہلے میں سجدہ ریز ہوئی
دراز اپنا میں دست سوال کرنے لگی
سوال کرنے لگے ناقدین اب خوشبوؔ
سخن میں اپنی میں قائم مثال کرنے لگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.