اپنے ہاتھوں کو خود اپنا ہی ہنر کاٹتا ہے
اپنے ہاتھوں کو خود اپنا ہی ہنر کاٹتا ہے
جس کو پرواز سکھائیں وحی پر کاٹتا ہے
ایسی بے کیفی کہ بازار سے گھبراتا ہوں
اور بازار سے گھر جاؤں تو گھر کاٹتا ہے
اک عجب کرب کی زنجیر نے جکڑا ہے مجھے
اک عجب درد ہے جو میرا جگر کاٹتا ہے
زندگی کے لیے لازم ہے درختوں کا وجود
ہے وہ خود اپنا ہی دشمن جو شجر کاٹتا ہے
زندگی اس طرح جینا کوئی جینا تو نہیں
جس طرح آشناؔ بے نام سفر کاٹتا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.