لب بام وہ مسکرانا کسی کا
لب بام وہ مسکرانا کسی کا
مرے دل پہ بجلی گرانا کسی کا
تعجب ہے پہلو سے کیا ہو گیا دل
نہ آنا کسی کا نہ جانا کسی کا
سبھی منع کرتے تھے عشق بتاں سے
مگر ہم نے کہنا نہ مانا کسی کا
سنا شکوۂ ہجر پھر ہنس کے بولے
نہیں ہم ہیں سنتے فسانا کسی کا
وہ شوخی غضب کی لڑکپن کی باتیں
ہمیں یاد ہے وہ زمانہ کسی کا
وہ خاموش بیٹھے ہیں کیوں سر جھکائے
خیال آ گیا دل دکھانا کسی کا
وہ گھر غیر کے روز جاتے ہیں بسملؔ
موافق ہے ایسا زمانہ کسی کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.