جسم میں زندگی کسمسانے لگی
جسم میں زندگی کسمسانے لگی
دیکھتے دیکھتے جان جانے لگی
وصل کی چھاؤں میں لہلہاتی تھی جو
ہجر کی دھوپ اس کو جلانے لگی
لب سلے ہی رہے مصلحت میں جہاں
آنکھ میری وہاں ڈبڈبانے لگی
مجھ سے لپٹے تھے یادوں کے جالے ترے
دھیرے دھیرے جنہیں میں ہٹانے لگی
بے بسی سے بھی ہے یہ بڑی بے بسی
نام لکھ لکھ کے تیرا مٹانے لگی
کیفیت دل کی سب سے چھپائی ہے یوں
بھیگی پلکیں تو میں مسکرانے لگی
ناخدا نے بھی چھوڑا ہے مجھ کو وہاں
میری کشتی جہاں ڈگمگانے لگی
ہو گئے سب پریشاں مری ذات سے
زندگی کیوں برے دن دکھانے لگی
بے اثر ہو گئی جب وضاحت ثناؔ
خامشی ساتھ تب سے نبھانے لگی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.