ذکر حبیب ہے کہیں فکر معاش ہے
ذکر حبیب ہے کہیں فکر معاش ہے
سب کو یہاں کسی نہ کسی کی تلاش ہے
ہر دل میں حسرتوں کے ہیں مدفن بنے ہوئے
ہر شخص آپ اپنی امیدوں کی لاش ہے
سب جانتے ہیں پر کوئی پہچانتا نہیں
اس شہر میں ہماری بھی کیا بود و باش ہے
کہتا ہے جھیل سے کسی کنکر کی داستاں
اب تک جو سطح آب پر اک ارتعاش ہے
احساس کے افق پہ سر شام غم قتیل
نکلا ہے کوئی چاند مگر قاش قاش ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.