سجی ہے محفل رنگ و طرب اداس ہیں ہم
سجی ہے محفل رنگ و طرب اداس ہیں ہم
یہ رنگ لائی ہے اس کی طلب اداس ہیں ہم
فقط خموش ہمیں دیکھ کوئی بات نہ کر
تجھے خبر نہیں اے بے ادب اداس ہیں ہم
ہمارے لب پہ تبسم کو دیکھ کر خوش ہے
اسے خبر ہی نہیں زیر لب اداس ہیں ہم
ترا فراق سبب تھا کبھی اداسی کا
یہ حال کیا ہے کہ اب بے سبب اداس ہیں ہم
کسی بھی بزم مسرت میں جی نہیں لگتا
عجیب اپنی طبیعت عجب اداس ہیں ہم
تمہیں ہے زعم بہت درد آشنائی کا
ہمارے حال کو سمجھو گے کب اداس ہیں ہم
وہ غم شناس عطا کر خدا جو یہ سمجھے
کہ کب اداس نہیں اور کب اداس ہیں ہم
متاع زیست بھی نذر غم معاش ہوئی
بچا نہ پائے تمہاری طلب اداس ہیں ہم
جو راز دل میں نہاں تھا وہ ہو گیا اظہرؔ
کہ آج ٹوٹ گیا قفل لب اداس ہیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.