ہر اک سعیٔ خرد بیکار ٹھہری
ہر اک سعیٔ خرد بیکار ٹھہری
جنوں کی بات ہی ہر بار ٹھہری
نہ جب اہل خرد نے بات مانی
تو پھر شرط صلیب و دار ٹھہری
مہک پہچانتی ہے خون دل کی
زمین کوچۂ دل دار ٹھہری
تو ہی خود دیکھ شہ رگ بچ رہی ہے
کہاں آ کر تری تلوار ٹھہری
جنوں کو ڈھونڈنے نکلی تو ہم پر
نگاہ لمحۂ بیدار ٹھہری
کبھی مقتل رہا ہوگا یقیناً
جہاں زنجیر کی جھنکار ٹھہری
پلاؤں چاند کا امرت کہاں تک
یہ دنیا روز کی بیمار ٹھہری
یہی تو امتحان رہروی ہے
تمنا دشت کے اس پار ٹھہری
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.