روشنی ہو گئی چراغوں سے
روشنی ہو گئی چراغوں سے
دل بجھا ہی رہا گناہوں سے
باغباں ظلم کر رہے ہو تم
دور کر کے گلوں کو شاخوں سے
خود کو قابو میں کر نہیں پایا
بہہ پڑے اشک میری آنکھوں سے
دھڑکنیں تیز ہوتی جاتی ہیں
اس کی باتوں سے اور خیالوں سے
منصفو ان کو بھی سزا دو ذرا
قتل کرتے ہیں جو نگاہوں سے
زندگی سے ملے سبق ایسے
جو نہ حاصل ہوئے کتابوں سے
سیکھتے ہیں حیات ہم تو رضاؔ
ٹھوکروں حادثوں عذابوں سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.