تھوڑی آدم کے گناہوں کی سزا اور سہی
تھوڑی آدم کے گناہوں کی سزا اور سہی
ایک عالم تو کہیں پر تو بسا اور سہی
ہم سے تو اس بت کافر کا نہ سودا جائے
تیرے کعبے کے مقدر میں خدا اور سہی
رات پلکوں پہ دیے کون جلا دیتا ہے
اور چراغوں سے یہ کہتی ہے ہوا اور سہی
اور کچھ شوخ ذرا رنگ تو ہو لینے دے
اس کے ناخن کو بنا زخم کشا اور سہی
قیس و فرہاد کی اب راہ تو پامال ہوئی
پائے سرکش کا کوئی راہنما اور سہی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.