مسیحائی نہیں وہ کر رہے ہیں
مسیحائی نہیں وہ کر رہے ہیں
تو پھر یہ زخم کیسے بھر رہے ہیں
بہت سارے گنہ تو آج کل ہم
خدا کا نام لے کر کر رہے ہیں
چلو دیکھیں تمہارا حوصلہ اب
لو ہم کشتی میں پانی بھر رہے ہیں
تو مذہب جان کر ماتم کرو گے
یہ کیا کم ہے کہ انساں مر رہے ہیں
تمہیں مجھ سے شکایت ہے یہاں لوگ
خدا سے بے وفائی کر رہے ہیں
بنا ٹھہرے بہت چپ چاپ آخر
یہ دریا کس کا پیچھا کر رہے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.