سب پرندے چہکنے لگے ہر شجر مسکرانے لگا
سب پرندے چہکنے لگے ہر شجر مسکرانے لگا
آپ آئے جو گھر پر مرے میرا گھر مسکرانے لگا
ہر غزل میری بے ساز تھی شاعری میں مزہ کچھ نہ تھا
آپ سے کیا محبت ہوئی یہ ہنر مسکرانے لگا
زندگی کے ہر اک موڑ پر تھی اداسی بہت دور تک
ساتھ تم کیا چلے جان جاں یہ سفر مسکرانے لگا
اس کے ہنسنے سے دل کو مرے چین ملنے لگا تھا مگر
جب سے اس کو خبر یہ ملی مختصر مسکرانے لگا
وہ نہ نزدیک آیا تو کیا یہ بھی کچھ کم نہیں دوستو
اس نے دیکھا مجھے اور وہ دیکھ کر مسکرانے لگا
ہلکی بارش تھی میں اور وہ بھیگ کر بات کرتے رہے
شادؔ سوچا جو اس رات کو سوچ کر مسکرانے لگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.