Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

نہیں ہوتا گزارا گھر نہیں ہے

محمد رضا حیدری

نہیں ہوتا گزارا گھر نہیں ہے

محمد رضا حیدری

MORE BYمحمد رضا حیدری

    نہیں ہوتا گزارا گھر نہیں ہے

    سبھی کچھ ہے ہمارا گھر نہیں ہے

    یہ گھر صحرا ہے جنگل ہے قفس بھی

    یہ گھر سارے کا سارا گھر نہیں ہے

    تجھے کس منہ سے اپنے گھر بلائیں

    ترے قابل ہمارا گھر نہیں ہے

    جگا کر شیخ نے بولا کہ جاؤ

    یہ مسجد ہے تمہارا گھر نہیں ہے

    مدد لینے میں جس کے گھر گیا تھا

    وہ اندر سے پکارا گھر نہیں ہے

    یقیں مانو مرے جانے سے پہلے

    یہیں پر تھا ہمارا گھر نہیں ہے

    یہ کہتی ہے نظر مالک مکاں کی

    تمہارا گھر تمہارا گھر نہیں ہے

    میں اک ماں ہوں کروں آرام کیسے

    مری آنکھوں کا تارا گھر نہیں ہے

    محبت اور سکوں ہے نام گھر کا

    یہ پتھر اور گارا گھر نہیں ہے

    نہیں سالم مرا سامان کوئی

    ہے یہ واضح اشارہ گھر نہیں ہے

    خدا کے گھر کے آگے بے گھروں نے

    لگایا ہے یہ نعرہ گھر نہیں ہے

    تلاش رزق میں نکلا ہوا ہے

    کئی دن سے بچارہ گھر نہیں ہے

    تجھے بھی خواہش جنگ و جدل ہے

    رضاؔ تجھ کو بھی پیارا گھر نہیں ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے