نہیں ہوتا گزارا گھر نہیں ہے
نہیں ہوتا گزارا گھر نہیں ہے
سبھی کچھ ہے ہمارا گھر نہیں ہے
یہ گھر صحرا ہے جنگل ہے قفس بھی
یہ گھر سارے کا سارا گھر نہیں ہے
تجھے کس منہ سے اپنے گھر بلائیں
ترے قابل ہمارا گھر نہیں ہے
جگا کر شیخ نے بولا کہ جاؤ
یہ مسجد ہے تمہارا گھر نہیں ہے
مدد لینے میں جس کے گھر گیا تھا
وہ اندر سے پکارا گھر نہیں ہے
یقیں مانو مرے جانے سے پہلے
یہیں پر تھا ہمارا گھر نہیں ہے
یہ کہتی ہے نظر مالک مکاں کی
تمہارا گھر تمہارا گھر نہیں ہے
میں اک ماں ہوں کروں آرام کیسے
مری آنکھوں کا تارا گھر نہیں ہے
محبت اور سکوں ہے نام گھر کا
یہ پتھر اور گارا گھر نہیں ہے
نہیں سالم مرا سامان کوئی
ہے یہ واضح اشارہ گھر نہیں ہے
خدا کے گھر کے آگے بے گھروں نے
لگایا ہے یہ نعرہ گھر نہیں ہے
تلاش رزق میں نکلا ہوا ہے
کئی دن سے بچارہ گھر نہیں ہے
تجھے بھی خواہش جنگ و جدل ہے
رضاؔ تجھ کو بھی پیارا گھر نہیں ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.