میری بنتی ہی نہیں تھی کبھی سردار کے ساتھ
میری بنتی ہی نہیں تھی کبھی سردار کے ساتھ
اس لئے فاصلہ بڑھتا گیا دربار کے ساتھ
سر اگر جائے چلا جائے شکایت کیسی
بد سلوکی نہیں منظور ہے دستار کے ساتھ
نوکری جسم تو پردیس میں لے آئی مگر
جان اٹکی ہے مری آج بھی گھر بار کے ساتھ
یہ شب ہجر ہے کاٹے نہ کٹے گی صاحب
ویسے تو عمر گزر جاتی ہے رفتار کے ساتھ
عین ممکن ہے تجھے کام کے نکتے دے دے
دو گھڑی بیٹھ کبھی کاشفؔ بیکار کے ساتھ
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.