دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا
دنیا میں ڈوب جانا مگر گھر نہ چھوڑنا
دریا کی سیر کر کے سمندر نہ چھوڑنا
اپنی تلاش اکیلے نہیں کر سکو گے تم
لیکن کسی کا ہاتھ پکڑ کر نہ چھوڑنا
اس زندگی کی دوڑ کے اپنے اصول ہیں
سارے امیدوار برابر نہ چھوڑنا
اپنے پرائے کی نہ رہے گی کوئی تمیز
باہر کے پہرے دار کو اندر نہ چھوڑنا
نفرت کے واسطے بھی وسیلہ تو چاہیے
میرا یہ مشورہ ہے کہ منبر نہ چھوڑنا
آخر زمین ہی نے کہا آسمان سے
میرے معاملات کو مجھ پر نہ چھوڑنا
چیزوں سے مختلف ہے یہ لوگوں کا مسئلہ
بہتر کے واسطے کبھی کمتر نہ چھوڑنا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.