محبت ہو اگر سچی تو دامن نم نہیں ہوتا
محبت ہو اگر سچی تو دامن نم نہیں ہوتا
کہ آنسو خشک ہو جائیں پہ طوفاں کم نہیں ہوتا
غم دوراں سے درد عشق تو کچھ کم نہیں ہوتا
بڑھا سوز دروں گو غم بظاہر غم نہیں ہوتا
فراق و ہجر میں گھٹ گھٹ کے مر جانا ہی بہتر ہے
سر بازار ہم سے جور کا ماتم نہیں ہوتا
مقابل ان کے جا کر دل کی یہ حالت ہوئی ہمدم
قرار آیا مگر درد دروں تو کم نہیں ہوتا
تری الفت میں آلام جہاں بھی ہو گئے آساں
محبت میں کبھی جور و جفا کا غم نہیں ہوتا
تصور میں وہ آ کر اضطراب دل بڑھاتے ہیں
کہ دیدار ان کا ہوتا ہے مگر پیہم نہیں ہوتا
خوشا یہ بے خودی یہ بے کلی ہے اضطراب دل
کہ میرے آنسوؤں سے ان کا دامن نم نہیں ہوتا
کسی کی اب خوشی سے بھی خوشی حاصل نہیں ہوتی
کہ ہنس لیتا ہوں سب کے ساتھ دل خرم نہیں ہوتا
متینؔ اب حال دل اپنا کرو اس شوخ پر ظاہر
تکلم عاشق دلگیر کا پیہم نہیں ہوتا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.