کائنات درد کے حامل ہیں ہم
کائنات درد کے حامل ہیں ہم
جسم ہے سارا زمانہ دل ہیں ہم
آپ تو غم سے پریشاں ہو گئے
ہم سے ملیے درد کی منزل ہیں ہم
زندگی کی ماحصل تنہائیاں
لوگ کہتے ہیں کہ اک محفل ہیں ہم
کیوں ہمیں کو منتخب تو نے کیا
اے نگاہ یار کس قابل ہیں ہم
ان کی ہر سازش پہ ہے اپنی نظر
سوچتے رہتے ہیں وہ غافل ہیں ہم
کیا بتائیں نورؔ اپنا مرتبہ
بس رخ کونین پر اک تل ہیں ہم
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.