Font by Mehr Nastaliq Web

aaj ik aur baras biit gayā us ke baġhair

jis ke hote hue hote the zamāne mere

رد کریں ڈاؤن لوڈ شعر

ہر سمت چراغاں سا تھا ظلمات سے پہلے

عبد الحفیظ نعیمی

ہر سمت چراغاں سا تھا ظلمات سے پہلے

عبد الحفیظ نعیمی

MORE BYعبد الحفیظ نعیمی

    ہر سمت چراغاں سا تھا ظلمات سے پہلے

    دیکھی تھی سحر ہم نے بھی اس رات سے پہلے

    معیار سخن زیر و بم نے تو نہیں ہے

    ہر نغمہ فقط چیخ ہے جذبات سے پہلے

    جدت کا چمن ہے اسی فنکار کا حصہ

    گزرا ہے جو صحرائے روایات سے پہلے

    ہر راہ یہ کہتی ہے یقیناً کوئی سورج

    گزرا ہے درخشانیٔ ذرات سے پہلے

    یوں چین تو قسمت میں کبھی بھی نہ تھا لیکن

    یہ حال نہ تھا پرسش حالات سے پہلے

    ہم نے بھی غم زندگی سینے سے لگایا

    لیکن یہ ہوا تیری ملاقات سے پہلے

    یہ رنگ یہ بو جو ہیں تری زلف کا تلچھٹ

    موہوم سا اک خواب تھے اس رات سے پہلے

    تھے کتنے خنک تیری گھنی زلف کے سائے

    ان غم کے سلگتے ہوئے لمحات سے پہلے

    تھی ملک کشائی مرے ایماں کی رہ و رسم

    ان خانقہی رسم و روایات سے پہلے

    روداد چمن اتنی ہے اک شعلہ نعیمیؔ

    اٹھا تھا نشیمن کے مضافات سے پہلے

    مأخذ :

    موضوعات

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    Click on any word to get its meaning
    بولیے