ہر سمت چراغاں سا تھا ظلمات سے پہلے
ہر سمت چراغاں سا تھا ظلمات سے پہلے
دیکھی تھی سحر ہم نے بھی اس رات سے پہلے
معیار سخن زیر و بم نے تو نہیں ہے
ہر نغمہ فقط چیخ ہے جذبات سے پہلے
جدت کا چمن ہے اسی فنکار کا حصہ
گزرا ہے جو صحرائے روایات سے پہلے
ہر راہ یہ کہتی ہے یقیناً کوئی سورج
گزرا ہے درخشانیٔ ذرات سے پہلے
یوں چین تو قسمت میں کبھی بھی نہ تھا لیکن
یہ حال نہ تھا پرسش حالات سے پہلے
ہم نے بھی غم زندگی سینے سے لگایا
لیکن یہ ہوا تیری ملاقات سے پہلے
یہ رنگ یہ بو جو ہیں تری زلف کا تلچھٹ
موہوم سا اک خواب تھے اس رات سے پہلے
تھے کتنے خنک تیری گھنی زلف کے سائے
ان غم کے سلگتے ہوئے لمحات سے پہلے
تھی ملک کشائی مرے ایماں کی رہ و رسم
ان خانقہی رسم و روایات سے پہلے
روداد چمن اتنی ہے اک شعلہ نعیمیؔ
اٹھا تھا نشیمن کے مضافات سے پہلے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.